logo
" عشق ایک قابلِ نفوذ برقی اور مقناطیسی توانائی ہے جو لامتناہی جہان کے جزو و کل کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔"

"زوایاے مخفیَ حیاتی" [حیات کے مخفی زاویے] از پروفیسر صادق عنقا پیر اویسی
برقی مقناطیسی مش
تین نقطوں پر ارتکاز کی مشق
اس مشق کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے جسمانی اعضا سے پور ی طرح واقف ہوں۔ یہ اُسی وقت ممکن ہے جب ہمیں یہ معلوم ہو کہ کس طرح ہم اپنے ذہن میں مسلسل اور عادتًا بار بار آنے والی سوچوں سے توجّہ ہٹا کر اپنے جسم کے مختلف حصّوں پر توجّہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں بعض ترکیبیں استعمال کر کے اپنے دماغ کو منظّم بنانا ہوگا۔ اِس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہم خاص قسم کی ارتکاز کی مشقیں کریں۔ ذیل میں ایک بہت عمدہ مشق کی تفصیلات موجود ہیں جو درجہ بہ درجہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کس طرح ہم بیرونی معاملات پر توجّہ دینے کے بجاے اپنے آپ پر بھرپور توجّہ دے سکتے ہیں۔

تیّاری:

  • آرام دہ اور ڈھیلا لباس پہن لیں۔ بہتر ہے کہ یہ سوتی ہو اور آپ کے تمام جسم کو ڈھک لے۔ اِس طرح مشق سے حاصل ہونے والی حرارت اور گرمی آپ کی جلد میں برقرار رہے گی۔
  • کوئی پُرسکون جگہ منتخب کر لیں جہاں اِس مشق کے دوران کوئی مداخلت نہ کر سکے۔ بہتر ہے کہ آپ اپنے گھر میں ارتکاز کی روزانہ مشقوں کے لیے کوئی ایک کمرہ مخصوص کر لیں۔
  • آلتی پالتی مار کر بیٹھ جائیں۔ خود کو آرام دہ حالت میں لے آئیں اور اِس مشق کے دوران براہِ مہربانی جسم کو حرکت دینے سے بالکل گریز کریں۔ کیونکہ تھوڑی سی بھی جسمانی حرکت، سوچوں کے سلسلے کو منقطع کر سکتی ہے جس کی وجہ سے مشق کے اثرات متاَثر ہو سکتے ہیں۔
  • ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھ لیں اور ہتھیلیوں کا رخ اوپر کی طرف رکھیں۔ پورے جسم کو آرام دہ حالت میں لے آئیں، جس میں آپ کی گردن، چہرے کے عضلات اور کندھے سب شامل ہیں۔
ازراہِ کرم توجّہ فرمائیں:
  • سانسوں کے ذریعے مراقبے کی اِس مشق کو روزانہ 12 منٹ کرنے کے بعد، روزانہ اپنے اردگرد اور خود اپنے وجود کے اندر کے تجربات کا ریکارڈ رکھیں۔
  • یہ بے حد قابلِ توجّہ بات ہے کہ جتنا زیادہ آپ اپنی روزانہ مشقوں میں انہماک سے کام لیں گے، اُتنا ہی زيادہ آپ اِن مشقوں سے فائدہ حاصل کر سکیں گے۔
  • ہم تقریبًا حتمی طور پر اُنھی عادتوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں جن میں ہمارا دماغ خود کو مصروف رکھتا ہے۔ اِسی سبب سے ہم روزمرّہ زندگی کے حالات اور معاملات میں اِتنے زیادہ مصروف ہوجاتے ہیں کہ اپنی ذات کے لیے چند لمحات بھی نہیں نکال پاتے، لہٰذا براہِ مہربانی اِس طرف بھی توجّہ دیجیے کہ آپ روزمرّہ بنیادوں پراپنی توانائیوں کو کیسے اور کہاں خرچ کرتے ہیں، تاکہ آپ خود پر بہترقابو پاسکیں اور جب اِس مشق کو کرنا چاہیں تو اِس کی تیّاری کے لیے اپنی سوچوں کو پُرسکون کرنے میں آسانی محسوس کریں۔
    مشق:
  • آنکھیں بند کرلیں اور بے حد آہستگی سے گہری سانسیں لینا شروع کریں اپنے طبعی جسم کو محسوس کرنے کا آغاز کریں۔ اپنی جلد کی طرف توجّہ کرنا شروع کریں کہ وہ کیسا محسوس کر رہی ہے۔ اُس لباس پر غور کریں جو آپ کی جلد سے لگا ہوا اور اُسے ڈھکے ہوئے ہے۔ اب محسوس کریں کہ ہوا کی نمی جسم کے اَن ڈھکے حصّے پرکیسی لگ رہی ہے؟
  • پھر اِس بات پر غور کریں کہ ہوا آپ کے پھیپھیڑوں میں کس طرح داخل ہو رہی ہے۔ کیا آپ اپنا دورانِ خون محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ مشق کرتے ہوئے اپنے دماغ سے ہر وہ سوچ نکال دیں جو آپ کی توجّہ پر اثرانداز ہو رہی ہو۔ اب اپنے جسم کے اندر کےگرم علاقوں کو محسوس کریں۔
  • جب آپ سکون کی حالت میں اور متوجّہ ہو جائیں تو پوری توجّہ اپنی پیشانی پر مبذول کرلیں۔ اپنی پیشانی میں اِس طرح سانس داخل کرنے کی کوشش کریں، گویا وہ آپ کے پھیپھڑے ہیں۔ اپنی پیشانی کے ہر خلیے میں سانس داخل کریں اور اِس بات کو یقینی بنائیں کہ اُن میں خوب آکسیجن داخل ہو رہی ہے۔
  • مشق کے اِس حصّے کو مسلسل اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک آسانی سے ہو سکے اور جب تک آپ کا سارا وجود گہرے سکون کی حالت میں نہ آجائے۔







  • پھر اپنی ساری توجّہ اپنے سر کے اوپری حصّے پر کرلیں اور اِس حصّے میں سانس لیں۔ ہوا کو کھوپڑی اور دماغ میں داخل ہوتا محسوس کریں۔ اب اپنے دماغ کو تصوّر میں دیکھیں اور محسوس کریں۔ ٹھیک اُسی لمحے عصبی خلیے(neurons) اپنا کام کر رہے ہیں اور برقی قوّتیں اور اشارے خارج کر رہے ہیں۔ اُن پر توجّہ دیں اور اُن میں سانس لیں۔ اپنے دماغ کی قوّتوں اور اُن کے ارتعاش کو محسوس کریں۔ دیکھیں، آپ دماغ کے کس حصّے کو زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ جو حصّہ غیر متوازن لگے، اُس حصّے میں سانس لیں تاکہ دماغ کے دونوں حصّے آپس میں متوازن ہو جائیں۔
  • دیہ مشق اُس وقت تک کرتے رہیں جب تک کہ آپ اپنے دماغ کے دائیں اور بائیں حصّےمیں مکمّل ہم آہنگی کا تجربہ نہ کر لیں۔ اب اپنی گردن کے پچھلے حصّے پر جائیں اور اُس میں بھی اُسی انداز سے سانس لیں۔ آپ کی گردن کی پشت پر ایک جگہ ایسی ہے جو آپ کے حلق کی سیدھ میں ہے۔ اُس حصّے میں اِس طرح سانس لیں گویا یہ پشتِ گردن نہیں،آپ کے پھیپھڑے ہوں۔ یہ عمل جاری رکھیں اور اُس حصّے میں ہونے والے چھوٹی سے چھوٹی حرکت کو اچھّی طرح محسوس کریں۔ آخر میں، پیشانی سے شروع کرکے، سر کے اوپری حصّے اور پھر گردن کے پچھلے حصّے تک جاتے ہوئےاِن تینوں حصّوں میں سانس لے کر اِنھیں مربوط کر لیں۔ ایسا کرتے ہوئے آپ کو ایسا لگنا چاہیے جیسے یہ سانسوں کا ایک مسلسل سفر ہے جو پیشانی سے شروع ہو کر سر کے بالائی حصّے سے گزرتا ہوا آپ کی گردن کی پشت تک آرہا ہے۔ یہ عمل اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک فطری طور پر یہ تمام حصّے آرام دہ حالت میں نہ آجائیں۔

فوائد:

  • جسم کے اندر حرارت کی تقسیم
  • جسم اور دماغ کی ہم آہنگی میں اضافہ
  • ذہن سے بکواس کا صفایا،انہماک میں اضافہ
  • آگاهی به بدن و حضور ذهن
  • جسم میں زیادہ حاضر رہنے کی صلاحیت
  • توانائی کے بہاو کا شعور
  • جسم میں موجود توانائی کے نقاط کا ربطدن