برقی مقناطیسی مراکز
مراکز مغناطیسی چه هستند؟
برقی مقناطیسی توانائیاں ہر لمحے موجود ہیں۔ ایم ٹی او شاہ مقصودی® مکتبِ عرفانِ اسلامی کی تعلیمات کے مطابق اس مقناطیسی قوّت کا نام ہے "عشق،" یعنی وہ قوّت جو کائنات سے ہمارا رابطہ قائم کرتی ہے۔
انسانی جسم میں توانائی کے متعدّد اہم مراکز موجود ہیں۔ ایم ٹی او® مکتب عرفانِ اسلامی میں ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ انسانی صحت اور تندرستی کے لیے ان مراکز میں ہم آہنگی بے حد اہم ہے۔ یہ مراکز تصوّف میں مقناطیسی سرچشمے کہلاتے ہیں۔ اصل سرچشمہ جو خاص قلب میں موجود ہے، حضرت شاہ مقصود پیراویسی اسے سرچشمہَِ حیات یا عقدہَ حیاتی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر بارہ مقناطیسی سرچشمے بھی موجود ہیں، جو یہ ہیں: شبکہَ آفتابی، یعنی خورشیدی شعاعوں کا جال (Solar Plexus)، قلب میں تین عقدے (nodes)، عقدہَ تیموس، مرکزی نقطہَ حلق، دماغ میں عقدہَ شکمچہَ سوم، عقدہَ چشمِ سوم (دونوں بھووں کے درمیان)، مغز کا خاکستری طبقہ، نرمہَ مغز قدّامی (دماغ میں سامنے کا نرم حصّہ)، دماغی تنا، دمچی، یعنی ریڑھ کی نچلی تِکونی ہڈّی۔
اِن میں اہم ترین مقناطیسی سرچشمہَ حیات قلب میں موجود ہے۔ تصوّف کے تمام عملی طریقوں میں اسی حصّے کی بڑی اہمیت ہے، کیونکہ تمام مشقیں قلب کے اسی حصّے پر انحصار کر کے انجام دی جاتی ہیں۔
تأکید عمده انرژی مغناطیسی بیشتر بر عقده حیاتی است که در قلب جای دارد. تقریباً در کلیه تعلیمات عرفان، تأکید بر این امر محسوس بوده و بهر جهت کلیه تمرینات به تمرکز در این نقطه از قلب ختم میشود.
یکی از نخستین و چالش برانگیزترین تعلیماتی که شاگردان با آن روبرو میشوند، زمانی است که برای اولین بار با این مطلب مواجه میشوند که فرد نمیباید کاملاً بر سیستم حسی (نفسانی) خود بنا کرده و پذیرا باشد. سالیان متمادی، ما یادگرفته ایم که تنها بر روی اکتسابیات حسی خود متکی بوده و براساس آنها دادوستد نمائیم. مبارزه زمانی پیش میاید که عرفان، با به زیر سؤال بردن اکتسابیات حسی، ما را به مقابله و پیشی گرفتن از الگوی محدود فکریمان تحریک مینماید. به این دلیل که بر طبق دانش قدیم عرفان، مراکز خازنهای مغناطیسی میبایست منشأ و سرچشمه اکتسابیات ما باشند، و نه تنها سیستم حسی.
سب سے اہم اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی تعلیم، جو تصوّف کے طالب علموں کو دی جاتی ہے، یہ ہے کہ کسی شخص کو محض اپنے ظاہری محسوسات پر مکمّل بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔ سالہاسال سے ہمیں یہ سکھایا جاتا رہا ہے کہ ہم اپنے محسوساتی نظام پر بھروسا کریں اور اسی کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق اپنے عمل اور ردِّعمل کا اظہار کریں۔
اصل چیلنج اس وقت سامنے آتا ہے جب تصوّف و عرفان اس امر کی نفی کر دیتے ہیں اور ہمیں محدود سوچوں اور محسوسات سے بالاتر ہونے کے لیے کہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم صوفی دانش کے مطابق، ہمارے محسوسات کے بجاے ہماری شخصیت کے مقناطیسی مراکز ہی ہمیں اصل آگہی فراہم کرتے ہیں۔
حضرت پیر وضاحت کرتے ہیں :"محسوسات، ہر شے کی بیرونی سطح پر توجّہ مرکوز رکھتے ہیں، کیونکہ اپنی توانائیوں کے حصول کے لیے وہ آپ کی قوّتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ قوّتیں توانائیوں کو وصول بھی کرتی ہیں اور ان کی نوعیت کو سمجھتی بھی ہیں، پھر یہ ہر توانائی کو اس کے مرکز سے مربوط کر دیتی ہیں۔ آپ کی مرکزیت اور درست رہنمائی اُسی وقت ممکن ہے، جب آپ اِس برقی مقناطیسی نظام سے فائدہ اٹھائیں۔"