اس نظام کی جڑیں عرفان کی تعلیمات میں ہیں جو چودہ صدیوں سے زیادہ عرصے سے عملی طور پر جاری ہے۔ تمرکز پانچ عمدہ مشقی زمروں پر مشتمل ہے۔ سکوں بخشی و ذہنی آزادی، جسم کا گہرا سکون، موازنہ، تنفّس و تجمع (جمع ہونا)۔
ہر فرد، چاہے مرد ہو یا عورت، عمر کے کسی بھی مرحلے میں کسی خاص جسمانی شرط کے بغیر تمرکز کی مشقوں سے بہرہ مند ہوسکتا ہے۔
تمرکز' فرد کی طبعی سلامتی کی ضرورت کا جواب ہے۔ جسمانی اور ذہنی تکان اور ٹوٹ پھوٹ نیز ہر قسم کے دباو کے مقابلے میں یہ مشق ان آلودگیوں سے انسان کو پاک و صاف کرتی ہے جو فرد کو ترقی اور وسعت حاصل کرنے سے روکتی ہیں، اُن کے مقابلے میں فرد کی مدد کرتی ہے اور انجام کار اس کی خودشناسی اور آگاہی کی کوششوں کے لیے جواب بن جاتی ہے۔
تمرکز کی مشق توازن کی حالت کے لیے بنیاد فراہم کرتی، سکون اور ثابت قدمی پیدا کرتی ہے۔ بہادری اور ادراک میں وسعت پیدا کرتی ہے اور ایمان و عشق کی پرورش کرتی ہے۔
تمرکز کو مسلسل مشقوں ہی کے ذریعے جانا جا سکتا ہے۔ تمرکز کے اصولوں اور فنون سے آگاہی کی خاطر 'مشق' (عملی) کے حصّے کی طرف رجوع کیا جائے۔
"عرفان میں خلوت" کے کسی پروگرام میں شرکت سے تمرکز کا تجربہ کیا جا سکتا ہے۔
"عشق ہی سے تمام ہستی ہے یا تمام ہستی ہی عشق ہے۔"
کتاب: "زوایاے مخفی حیاتی"
حضرت شاہ مقصود صادق عنقا به حوالۂ کتاب "از جنین تا جنان" از حضرت میر قطب الدّین محمد عنقا
![]() | ||||||
|
|
||||||
![]() | ||||||
تمرکز کیا ہے؟ |
||||||